دم خم

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - تاب و طاقت، زور و قوت؛ مضبوطی، استواری، حوصلہ۔ "اگر یہی دم خم تھا تو پولیس کو آنے ہی کیوں دیا ہوتا۔"    ( ١٩٨٢ء، غلام عباس، زندگی نقاب چہرے ) ٢ - شان و شوکت، زعم، طاقت۔  اونچا رکھنا سبز ہلالی پرچم پاکستان کا عالم کو دکھلاؤ جیالو دم خم پاکستان کا    ( ١٩٨٥ء، پھول کھلے ہیں رنگ برنگے، ٧٧ ) ٣ - تلوار یا خنجر کی دھار، کاٹ اور خمیدگی۔  لگائے گا گلے کون یوں ہنس ہنس کے اے قاتل تری شمشیر کا دم خم یہ میرے امتحاں تک ہے      ( ١٩٠٧ء، دفتر خیال، ١٣٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دم' کے ساتھ 'خمیدن' مصدر سے حاصل مصدر 'خم' لگا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٧٠ء کو "الماس درخشاں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تاب و طاقت، زور و قوت؛ مضبوطی، استواری، حوصلہ۔ "اگر یہی دم خم تھا تو پولیس کو آنے ہی کیوں دیا ہوتا۔"    ( ١٩٨٢ء، غلام عباس، زندگی نقاب چہرے )

جنس: مذکر